31 اگست 2013 - 19:30
شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اوباما نے کانگریس کو بل بھیج دیا

واشنگٹن…امریکی صدر بارک اوباما نے کہاہے کہ شام پر حملے کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری درکار نہیں ، امریکا کسی بھی وقت شام پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

ابنا: اوباما نے حملے کی اجازت کے لیے ڈرافٹ بل کانگریس کو بھیج دیا ہے۔وائٹ ہاوٴس میں میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے صدربارک اوباما نیواضح کیا کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں شام میں کیمیائی حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے21اگست کے مبینہ کیمیائی حملے کو21ویں صدی کا بدترین واقعہ قراردیتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی حملہ انسانیت پر حملہ تھا۔ شام کی سرزمین پر اپنے فوجی نہیں بھیجیں گے لیکن محدود پیمانے پر ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہے۔صدراوباما کاکہناتھا کہ شام پر فوجی کارروائی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دے سکتے، یہ حملہ کسی بھی وقت کیاجاسکتا ہے،تاہم اسکے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے گی۔صدراوباما نے اس بات پرافسوس کااظہارکیا کہ اقوام متحدہ شام کے حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے پرناکام ہوگیا ہے۔ شام میں کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری درکار نہیں رہی۔انھوں نے کہا کہ دنیاکوبتاناہوگا کہ امریکا جوکہتا ہے وہ کرتا بھی ہے۔ شام میں باغیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔اس سے پہلے روسی صدر پیوٹن کاکہناتھا کہ شام پر کیمیائی حملے کا الزام سراسربے بنیادہے۔ اگر امریکا کے پاس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد موجود ہیں تو وہ انھیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں اور سلامتی کونسل میں پیش کرے۔ ادھرشام کے وزیراعظم کاکہنا ہے کہ شامی فوج ممکنہ مغربی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طورپر تیارہے۔

.....

/169